پہلی ملاقات
Poet: Hafeez Javed By: Shazia Hafeez, Attockنظر کا دھوکھا تھا یا سہانا خواب تھا
چڑھتی جوانی تھی حسن پہ شباب تھا
گورے گالوں پہ سرخی عجب تھی
لمس ہاتھوں کا کتنا دلگداز تھا
ہاتھ ملا کے میں تڑپتا رہا
وہ حسین بھی بے حساب تھا
نظریں ملانے کا مشاہدہ تھا کتنا حسین
ہونٹ چومتا تو خانہ خراب تھا
میرے دل کے ٹکڑے بھی لے گیا ساتھ
اس خون جگر کو وہ سمجھا شراب تھا
نظریں ملا کے وہ نظر ملا رہا تھا
اسی پہ ختم ہوا پھر وقت ملاقات کا
جاوید پہلی ملاقات ہوتی عجب ہے
وہ بھی بچھڑتے وقت لگتا اداس تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






