سمجھ جاتی تو اچھا تھا
Poet: Naseem Kashmiri By: Naseem Shadaie, Muzaffarabadلبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
تیری نظروں سے یہ نظریں صنم ملتی رہیں اکثر
تیری نظروں کو نظروں سے چرا لیتا تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
وہ اکثر شام سے پہلے جو نکلی باغ کی جانب
خوشی کے پھول بن کے دل بکھر جاتا تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
یہ دل چاہے جسے یارو! اسی کو دنیا چاہتی ہے
وہ اس دل کے خیالوں سے بکل جاتی تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
بگائیں پیار کی تیری نزر کرتا ہے شیدائی
نہیں ملتی خیالوں سے نکل جاتی تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






