سمجھ جاتی تو اچھا تھا
Poet: Naseem Kashmiri By: Naseem Shadaie, Muzaffarabadلبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
تیری نظروں سے یہ نظریں صنم ملتی رہیں اکثر
تیری نظروں کو نظروں سے چرا لیتا تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
وہ اکثر شام سے پہلے جو نکلی باغ کی جانب
خوشی کے پھول بن کے دل بکھر جاتا تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
یہ دل چاہے جسے یارو! اسی کو دنیا چاہتی ہے
وہ اس دل کے خیالوں سے بکل جاتی تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
بگائیں پیار کی تیری نزر کرتا ہے شیدائی
نہیں ملتی خیالوں سے نکل جاتی تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






