سمجھ جاتی تو اچھا تھا
Poet: Naseem Kashmiri By: Naseem Shadaie, Muzaffarabadلبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
تیری نظروں سے یہ نظریں صنم ملتی رہیں اکثر
تیری نظروں کو نظروں سے چرا لیتا تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
وہ اکثر شام سے پہلے جو نکلی باغ کی جانب
خوشی کے پھول بن کے دل بکھر جاتا تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
یہ دل چاہے جسے یارو! اسی کو دنیا چاہتی ہے
وہ اس دل کے خیالوں سے بکل جاتی تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
بگائیں پیار کی تیری نزر کرتا ہے شیدائی
نہیں ملتی خیالوں سے نکل جاتی تو اچھا تھا
لبوں کی مسکراہٹ سے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
کسی کو دل نے چاہا ہے سمجھ جاتی تو اچھا تھا
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا






