پہلے تو ہم سے صنم عہدِ وفا لیتے ہو
Poet: By: ghulam mujtaba kiyani, Lahore پہلے تو ہم سے صنم عہدِ وفا لیتے ہو
پھر محبت کو کہیں اور بسا لیتے ہو
میں مسیحا بھی نہیں اور نہ ہی ناصح ہوں
کیوں رفاقت میں مرِی آکے پناہ لیتے ہو
دے کر جاتے ہو دلاسہ مری جاں ،شکر ترا
یوں مرے دل سے ہر اک لمحہ دعا لیتے ہو
آگ خود دامن دل میں ہو لگاتے اور پھر
جھوٹے اشکوں سے اسے آکے بجھا لیتے ہو
جب ستاتی ہے تمہیں یاد وفا تو مری جاں
دشت مجنوں سے کہیں اس کا پتہ لیتے ہو
کون آتا ہے تجھے ملنے حویلی میں تری
پچھلی شب کس لئے تم دیپ جلا دیتے ہو؟
تم سے پروہز کس طرح بار غم عشق اٹھا لیتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






