پیار و الفت کی روشنی تم سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپیار و الفت کی روشنی تم سے
کون زندہ ہے زندگی تم سے
پھول کھلتے نہیں ہیں شاخوں پر
میرے ہونٹوں کی نازکی تم سے
خون روتی ہیں آندھیاں دل میں
اب تو موسم کی تازگی تم سے
اس نے اتنا دیا ہے غم مجھ کو
درد بڑھتا رہا کمی تم سے
میں نے دیکھا ہے پیار کا دریا
اس کے ہونٹوں پہ تشنگی تم سے
کوئی رستہ نہیں ہے آنکھوں میں
کیسے نکلے وہ دوستی تم سے
رات کٹتی نہیں ہے اے وشمہ
"اس کی یادوں کی روشنی تم سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






