پیار کی تمام سورتین دل پر الہام کر دے
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK پیار کی تمام سورتین دل پر الہام کر دے۔
اے پیامبر عشق پہلی فرصت یہ کام کر دے
وہ جو روزے اول سے میرا نصیب ھے۔
اس کو مجھے سونپ کر قصہ تمام کر دے۔
دل اپنا قائل نہین یار سات جنمون کا۔
بس اسی جنم وہ حوالے اپنے نعم کر دے۔
ایک پل بھی غافل نہ رہون اسکی یاد سے۔
یعنی وہ ورد زبان اپنے صبح و شام کر دے۔
کیون فریب کھائوں کسی اور ہستی کے؟
بس اپنے جلوون مین تو مجھکو تمام کر دے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






