سوئی میری تقدیر کو جگانے کے لیے آ
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK سوئی میری تقدیر کو جگانے کے لیے آ۔
آ پھر سے دل کی دنیا بسانے کیلیئے آ
مانا تمکو فرصت نہیں ظالم جہان سے۔
مگر مر رہا ھے کوئی بچانے کیلیئے آ۔
تنگ آ چکا ھے دل الفت کے بھرم سے۔
پیار کے حقیقی معنی سمجھانے کیلیئے آ۔
یوں بھی تو یہ زندگی امانت ھے تیری۔
آ اپنی امانت ہمسے لے جانے کیلیئے آ۔
آ کہ تیرے انتظار میں پتھرا گئیں آنکھیں۔
دل منتظر کو کوئی نوید سحر سنانے کلیئے آ۔
بس کہ بہت ہو چکین باہم کی رنجشین۔
تلخیاں اب بیچ کی مٹانے کے لیئے آ۔
آ کہ تیری دید کا مشتاق ھے ادھر دل !
بے قراری بڑھ رہی ھے گھٹانے کیلیئے آ۔
مجھ کو تیرے پیار کی ھے لت لگ گئی۔
معاملہ گھمبیر ھے جلد سلجھانے کیلیئے آ۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






