چاند پر اِک مے کدہ آباد ہونا چاہیے
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورچاند پر اِک مے کدہ آباد ہونا چاہیے
یا محبت کو یہیں آزاد ہونا چاہیے
قاضیئ مِحشَر! تری مرضی ، ہماری سوچ ہے
ظالموں کو دُنیا میں برباد ہونا چاہیے
رُوح کے بے رَنگ اُفق پر ، رات بھر گونجی ندا
دِل پرندہ ، فکر سے آزاد ہونا چاہیے
خواہشِ جنت میں کرتے ہیں جو زاہد نیکیاں
نام اُن کا ’’متقی شدّاد‘‘ ہونا چاہیے
خوبصورت تتلیوں نے کھول کر رَکھ دی کتاب
غنچوں کی جانب سے کچھ اِرشاد ہونا چاہیے
عشق کی گیتا کے ’’پچھلے‘‘ نسخوں میں یہ دَرج تھا
طالبانِ حُسن کو فولاد ہونا چاہیے
وَصلِ شیریں تو خدا کی مرضی پر ہے منحصر
عاشقوں کو محنتی فرہاد ہونا چاہیے
نامور عُشاق کی ناکامی سے ثابت ہُوا
عشق کے مضمون کا اُستاد ہونا چاہیے
خون سے خط لکھ تو لُوں پر پیار کے اِظہار کا
راستہ آسان تر ایجاد ہونا چاہیے
علم کا اَنبار راہِ عشق میں بے کار ہے
قیس کو بس لیلیٰ کا گھر یاد ہونا چاہیے
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






