اِسی سہارے پہ دِن ہجر کا گزارا ہے
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہوراِسی سہارے پہ دِن ہجر کا گزارا ہے
خیالِ یار ، ہمیں یار سے بھی پیارا ہے
صبا کا ، اَبر کا ، شبنم کا ہاتھ اَپنی جگہ
کلی کو پھول نے جھک جھک کے ہی نکھارا ہے
کسی کے ہاتھ پہ منہدی سے دِل بنا دیکھا
میں یہ بھی کہہ نہ سکا یہ تو دِل ہمارا ہے
نقاب پالکی میں بھول آئے کیوں حضرت
تمام شہر نے کیا آپ کا بگاڑا ہے
تم آسماں پہ نہ ڈُھونڈو سیاہ بدلی کو
کسی نے ہاتھ سے گیسو ذِرا سنوارا ہے
چلو بہارِ چمن لے کے گھر کو لوٹ چلیں
دَھنک کی لےَ میں کسی شوخ نے پکارا ہے
یہ ہاتھ چھوڑنے سے پیشتر خیال رہے
خدا کے بعد فقط آپ کا سہارا ہے
جو عمر بیت چکی وُہ حسابِ ہجر میں لکھ
جو سانس باقی ہے دُنیا میں وُہ تمہارا ہے
گھٹا ، صراحی ، دَھنک ، جھیل ، پنکھڑی ، شبنم
بدن ہے یا کسی شاعر کا اِستعارہ ہے
صنم کو دیکھ کے ، کچی کلی نے ’’کھُل‘‘ کے کہا:
’’بہت ہی اُونچی جگہ قیس ہاتھ مارا ہے‘‘
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






