اِسی سہارے پہ دِن ہجر کا گزارا ہے
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہوراِسی سہارے پہ دِن ہجر کا گزارا ہے
خیالِ یار ، ہمیں یار سے بھی پیارا ہے
صبا کا ، اَبر کا ، شبنم کا ہاتھ اَپنی جگہ
کلی کو پھول نے جھک جھک کے ہی نکھارا ہے
کسی کے ہاتھ پہ منہدی سے دِل بنا دیکھا
میں یہ بھی کہہ نہ سکا یہ تو دِل ہمارا ہے
نقاب پالکی میں بھول آئے کیوں حضرت
تمام شہر نے کیا آپ کا بگاڑا ہے
تم آسماں پہ نہ ڈُھونڈو سیاہ بدلی کو
کسی نے ہاتھ سے گیسو ذِرا سنوارا ہے
چلو بہارِ چمن لے کے گھر کو لوٹ چلیں
دَھنک کی لےَ میں کسی شوخ نے پکارا ہے
یہ ہاتھ چھوڑنے سے پیشتر خیال رہے
خدا کے بعد فقط آپ کا سہارا ہے
جو عمر بیت چکی وُہ حسابِ ہجر میں لکھ
جو سانس باقی ہے دُنیا میں وُہ تمہارا ہے
گھٹا ، صراحی ، دَھنک ، جھیل ، پنکھڑی ، شبنم
بدن ہے یا کسی شاعر کا اِستعارہ ہے
صنم کو دیکھ کے ، کچی کلی نے ’’کھُل‘‘ کے کہا:
’’بہت ہی اُونچی جگہ قیس ہاتھ مارا ہے‘‘
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






