چاہتوں کے سارے لمحے حادثے لکھتا رہا
Poet: Shafiq Murad By: Shafiq Murad, Frankfurtچاہتوں کے سارے لمحے حادثے لکھتا رہا
اس طرح وہ قربتوں کو فاصلے لکھتا رہا
کوچۂ ادراک حائل تھا جنوں کی راہ میں
وصل کی شب بھی ملن کے راستے لکھتا رہا
آنسوؤں کی بارشوں نے بھی نہیں بدلا مزاج
عشق اور میرے جنوں کو واہمے لکھتا رہا
خواہشوں کی گرد میں لپٹی ہوئی تصویر پر
عمر بھر اپنی وفا کے حاشیے لکھتا رہا
اُس سے ملکر بھی مکمل نہ ہوا اپنا ملاپ
عالمِ وحشت میں بھی میں ضابطے لکھتارہا
تشنگی تھی اور صحراوں کی لذت تھی مراد
پیاس میں پیتا رہا وہ ذائقے لکھتا رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






