چلتے چلتے کوئی کہہ گیا ھے
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)چلتے چلتے کوئی کہہ گیا ھے
کتنے کتنے یہ دکھ سہہ گیا ھے
یہ چپکے چپکے کون آیا ھے رات کو یوں
من کی مالا پروتے ھوئے کہہ گیا ھے
منزلوں کی تلاش جاری رکھو
راستوں کا انتخاب رہ گیا ھے
میں خوش ھوں کہ تم نے اپنی منزل پا لی
جو میرے نصیب میں تھا لکھا رہ گیا ھے
تو نے تو کہا تھا سرمے کو سنبھال کے رکھنا
مگر تیرے فراق میں آنکھوں سے بہہ گیا ھے
تو نے جانا ھی تھا تو روشنی کا انتظار کر لیتے
ڈھل چکی رات تھوڑا سا اندھیرا رہ گیا ھے
تو اس شہر میں اکیلے چھوڑ گیا ھے مجھ کو
حسن اب سوچتا ھوں اس شہر میں کیا رہ گیا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






