چلو آج ایک فیصلہ ہو جائے
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreچلو آج ایک فیصلہ ہو جائے
کچھ خوابوں سے
خوابوں کا سودا ہو جائے
دے کر مجھے میری خوشیاں
اپنے سکھ تم لے جانا
جانے سے پہلے تمہارے
کچھ یادوں کا بھی حساب ہو جائے
کچھ اور نہ سہی ہمارے بیچ
ایک یہی کام رضامندی سے ہو جائے
جانے کی بات تم نے کی تھی
لکھ کر دیں گے تم کو یہ بھی
کہیں کل کو جدائی کا فیصلہ بھی
ہماری غلطیوں میں نہ شمار ہو جائے
تم کو عادت ہے بھول جانے کی اسی لیئے
سبھی باتیں تحریر کی صورت میں ہوں گی
ؐکھ ہم سب کچھ دستخط کریں گیں
ضروری نہیں یہ بھی تمہارے لیئے مگر چلو
ہمارے پاس کوئی تو نشانی تمہاری
دستخط کی صورت میں رہ جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






