فقط اور نہیں کچھ

Poet: Ijaz Maqbool Aajiz By: Ijaz Maqbool Aajiz, Lahore

ایک آوارہ جان ہے فقط، اور نہیں کچھ
دل میں دھبے ارمان ہیں، فقط اور نہیں کچھ؟؟؟

ہم حسرتوں کی بات سرِ عام نہیں کرتے
لب پہ تیرا نام ہے، فقط اور نہیں کچھ

تم سے کچھ کہنا تھا، کچھ کہہ نہ سکے ہم
یہی میرا کام ہے، فقط اور نہیں کچھ

زاویے نگاہوں کے بدل جاتے ہیں، اپنوں کی
تیرا بھی کوئی دام ہے، فقط اور نہیں کچھ

سلسلے بڑھائے نہیں تھے میں نے تجھ سے
تو تو میری جان ہے، فقط اور نہیں کچھ

یوں عاشقی نہیں کی جاتی ہر کسی سے جاناں
تیرا ایک مقام ہے، فقط اور نہیں کچھ

ہزار بار نہیں، ہر بار یہی جتلایا ہے کہ
تو ہی میرا مان ہے، فقط اور نہیں کچھ

اب کہ پھر لوٹ آو نہ آخری بار میرے پاس
ابھی تو ڈھلی شام ہے، فقط اور نہیں کچھ

کیا کہتے ہو؟ کچھ ارادے ہیں نبھا کرنے کے بھی؟
زندگی رہی ناتمام ہے، فقط اور نہیں کچھ

ایک آوارہ جان ہے فقط، اور نہیں کچھ
دل میں دھبے ارمان ہیں، فقط اور نہیں کچھ

Rate it:
Views: 532
11 Jan, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL