چلو اقرار کر کے دیکھتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreچلو اقرار کر کے دیکھتے ہیں
کسی سے پیار کر کے دیکھتے ہیں
اپنی آنکھوں کے خالی پیالوں میں
ذرا خمار بھر کے دیکھتے ہیں
دل سے دل کی تجارت کیا ہوتی ہے
یہ کاروبار کر کے دیکھتے ہیں
کسی کے دل پہ وار کرتے ہیں
نظر تلوار کر کے دیکھتے ہیں
کسی کے حسن کا جلوہ نگاہ سے
جگر کے پار کر کے دیکھتے ہیں
محبت کے عذابوں کو کبھی ہم
گلے کا ہار کر کے دیکھتے ہیں
کسی کی جھیل جیسی آنکھوں کا
ہم بھی دیدار کر کے دیکھتے ہی
ہم اپنے پَرسکوں جیون کو عظمٰی
ذرا دَشوار کر کے دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






