کیا ہے پیار کوئی نوکری نہیں کی ہے
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississaugaاگرچہ اُس نے کبھی دشمنی نہیں کی ہے
ستمگری میں بھی کو ئی کمی نہیں کی ہے
مرِی وفا کا صلہ کیوں جفا سے دیتے ہو
کیا ہے پیار ، کوئی نوکری نہیں کی ہے
جنہیں ہے اسقدر افسوس میرے لٹنے کا
انہی سے پوچھیئے کب رہز نی نہیں کی ہے
کب ہم نے پیار میں سر پر اُسے بٹھایا نہیں
کب اُسنے عشق میں دادا گری نہیں کی ہے
وہ دل دُکھا ہے کہ اِن پچھلی آ ندھیوں کے بعد
بجھا چراغ تو پھر روشنی نہیں کی ہے
ترے فراق میں زندہ تو ہوں مگر اے دوست
بسر سکون سے یہ زندگی نہیں کی ہے
نصیبِ دشمناں سرکار خیر یت تو ہے
بڑے دنوں سے کوئی شاعری نہیں کی ہے
یہ واقعہ ہے کہ خود اپنی ذات سے انور
ملا ضرور ہوں پر دوستی نہیں کی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






