چلو بھول جائیں اس کہانی کو
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaچلو بھول جائیں اس کہانی کو
جس کہانی میں کچھ لمحے ہیں
ان لمحوں میں کچھ زمانے ہیں
ان زمانوں میں کچھ فسانے ہیں
وہ فسانے ہیں بے وفائی کے
اپنے پیاروں کی کج ادائی کے
ایسی باتوں کو یاد رکھنا کیا
ایسی یادوں کے ساتھ چلنا کیا
چلو بھول جائیں اس کہانی کو
جس کہانی کے سارے موڑوں پر
کچھ دم توڑتی ہوئی تمنائیں
کچھ حسرتوں کے لاشے ہیں
کچھ سپنے ہیں اجڑے موسم کے
کچھ چرچے بہار رفتاں کے
ایسی باتوں کا ذکر کرنا کیا
رونا رونا اور رات بھر رونا
چلو بھول جائیں اس کہانی کو
وہ کہانی جو نا مکمل ہے
نا مکمل سی اس کہانی میں
ایک لفظ مگر مکمل ہے
وہ لفظ جو میں نے سیکھا تھا
وہ لفظ جو میں نے سوچا تھا
وہ لفظ جو اس نے بولا تھا
وہ لفظ جو دل کی دولت ہے
ہاں مجھ کو تم سے محبت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






