چلو تو زندگی میں ساتھ مل کر چلنے لگتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاچلو تو زندگی میں ساتھ مل کر چلنے لگتے ہیں
گھٹن میں جی لیا ہم نے جو چل کر مرنے لگتے ہیں
ڈسے ہم ہیں، ڈسے تم ہو، مگر دشمن نہیں ملتا
کہیں باہر نہیں یہ سانپ، گھر میں پلنے لگتے ہیں
کوئی پارس نہیں چھوتا، مگر سونا نکلتا ہے
چلو مل جل کے ہم انسانیت میں ڈھلنے لگتے ہیں
ہمیشہ خون کرتے ہیں ہماری آرزوؤں کا
تمناؤں کا نذرانہ طلب یہ مرنے لگتے ہیں
جہاں آدم بنے انساں کہیں ڈھونڈو وہی بھٹی
بنیں ایندھن، ہمارے ساتھ مل کر جلنے لگتے ہیں
یہ اس دورِ کشاکش نے تو یوں رکھا ہے ٹھوکر پر
کہانی سیل غم کی اب سنانے کہنے لگتے ہیں
جو ذہن و دل میں زہریلی ہوا کے تیر چلتے ہیں
تری یادوں کے پتھر بھی مجھے اٹھانے لگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






