چلو روٹھو تم
Poet: Ijaz By: Ijaz Ahmed, Faisalabad (Dijkot)چلو روٹھو تم مجھ سے میں تم کو مناتا ہوں
تم اظہار وفا کرو میں اسے آگے بڑھاتا ہوں
بہت دن ہو گئے تاروں سے باتیں کرتے
تم گاؤ کوئی گیت نیا میں تم پے غزل گینگناتا ہوں
ابھی تو ہے آغاز سفر اور جذبات ھیں مدھم سے
چلو اب مان جاؤ میں تم سے روٹھ جاتا ہوں
مجھے تھام لو اپنی بانہوں میں اور کوئی ضد نئ کر دو
چلو تھامو تم میرا ہاتھ میں واپس لوٹ آتا ہوں
اور بھی ہیں بہت سے آزمانے کے ہنر باقی
رکھو تم سینے پے سر میں تمھیں دھڑکنیں سناتا ہوں
بہت وقت ہوا خاموش محبت کو نبھاتے ہوے اعجاز
مجھے تم سے محبت ہے میں کہنا بھول جاتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






