چمک رہی ہے کائنات میری نظروں میں
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreچمک رہی ہے کائنات میری نظروں میں
گزری ہوئی ہر بات میری نظروں میں
محبت تو کھیل ہے مر ہی جانے کا
جیت بھی ہے مات میری نظروں میں
اُس نے کی تھیں جو کبھی مجھ پہ
مچل رہی ہیں کرامات میری نظروں میں
سینہ ریت کا ساحل ہے میرا
کچھ بھی نہیں برسات میری نظروں میں
قیامت سا کچھ ہونا چاہئیے پیار میں
لاجواب ہو کوئی سوغات میری نظروں میں
ندامتوں میں لمبی عمر جی رہی ہوں
بس میں نہیں حالات میری نظروں میں
کوئی پوچھے تو بتا دوں میری ذات
میری کیا ہے اوقات میری نظروں میں
کب سے دن چڑھا‘کچھ یاد نہیں ہے
نجانے کب ہو جائے رات میری نظروں میں
محبت تو خوبصورت ہی ہے شاید
نگل جاتے ہیں جذبات ‘میری نظروں میں
شعلوں کی بستی ہے ایسا لگتا ہے
یہ ستاروں کی بارات میری نظروں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







