چپکے چپکے
Poet: Umer Farooqi By: Umer Farooqi, Rawalpindiتم چپکے چپکے مجھ سے پیار کرتی ہو
اپنی نگاہوں پر مجھے سوار کرتی ہو
مجھے ملنے کی خاطر تیرا ڈوبتے جانا
میرا کیوں اتنا انتظار کرتی ہو
وہ رات گئے تک میری باتیں سوچے جانا
ہر وقت کیوں دل کو بے قرار کرتی ہو
مجھ پر ذرا آنچ آنے سے تیرا ڈوبتے جانا
کیوں جان کو مجھ پر نثار کرتی ہو
محبت میں میری عمر گزار دینا
اس طرح کے وعدے کیوں ہر بار کرتی ہو
حاصل کرنے کے خیال سے مجھ پر
کیوں اتنا اعتبار کرتی ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






