چپ کہ سے آ کر اقرار کر گیا وہ
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیا سوچا تھا
اور کیا نکلا وہ
کیوں ٹوٹ کے چاہا ُاسے
جو یو ہی چھوڑ گیا وہ
اک بھروسہ ہی تو تھا ُاس پے
جو ُاس بھروسے کو توڑ گیا وہ
وہ میرے جذبات تھے یا لفظ تھے
جنہیں یو ہی پڑتا پڑتا چھوڑ گیا وہ
کسی بھی سوال کا جواب نا دیا ُاس نے
جن پے جاتے وقت مسکرا گیا وہ
جبکہ جاگ رہا تھا پھر بھی سونے لگا
کہہ کر مجھے تنہا جاگتا چھوڑ گیا وہ
چھپ کر پھر بھی مجھے دکھتا رہا
کیا ہیں یہ شخص جو الجھا گیا وہ
جب ڈوبنے لگے تنگ آ کر تنہایوں سے ہم
تو چپ کہ سے آ کر اقرار کر گیا وہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






