چھپائیں کتنا بھی وہ اپنا پیکر غم نہیں ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاچھپائیں کتنا بھی وہ اپنا پیکر غم نہیں ہوتا
نگارِ حسن کی زلفوں کے پیچ و خم نہیں ہوتا
عطا کی ہے خدا نے تھوڈی سی جوہر شناسی بھی
‘ میں اک شبنم کے قطرے میں سمندر نم نہیں ہوتا‘
ہے فطرت میں قناعت ‘ تو فقط چکھتی ہوں تھوڑی سی
مزہ آیا اگر چکھ کر ، تو پی کر غم نہیں ہوتا
خدا محفوظ رکھتا ہے کرم سے خیر خواہوں کے
کہ ان کی آستینوں میں کوئی الم نہیں ہوتا
خود اپنافیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
اسے بھی کیسے کر گزریں جو یہ پرنم نہیں ہوتا
ہمارے درد و غم کا کچھ مداوا ہو سکے شاید
تری آنکھوں کا موسم کیا یہ موسم نہیں ہوتا
گلہ وشمہ کریں کیوں ہم کسی کی بے وفائی کا
رہے گا یاد بھی کیسے جو اس کا غم نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






