وہ پتھر کسی آنکھ کا تارہ نہیں ھونے ولا
Poet: Faizan khuram(faizi) By: faizan khurram, faisalabadوہ پتھر کسی آنکھ کا تارہ نہیں ھونے ولا
تم بھی یہ جان لو وہ تمھارا نہیں ھونے والا
وہ اپنی مثال آپ ھے سو اسکی مثال میں
چاند۔۔ پھول۔۔ کچھ بھی استعا رہ نہیں ھونے والا
پڑھائی کیلئے شہر جانے والا سیدھا سادھا دیہاتی
اب کبھی بوڑھی ماں کا سہا را نہیں ھونے والا
ایک در، وہ دربدر، ھوا گھر سے بے گھر
تم تو کہتے تھے وہ آوارہ نہیں ھونے والا
تجارت کیجئے محبت کی ، کہ اجڑ کر بھی
محبت میں کسی بھی صورت خسارا نہیں ھونے والا
بٹ گیا ھوں میں ہجرتوں میں یہاں وہاں
میں تیرا ھو بھی جاؤں تو سارا نہیں ھونے والا
گرہ لگانے سے کچھ نھیں ھونا ،میاں صاف کہو
کہ 'انکا آپس میں گزارہ نھیں ھونے والا'
چودھویں کی رات ،آسمان بے نور، پہلو میں حضور
کسی قلندر کو دوبارہ ایسا نظارہ نہیں ھونے والا
یہ بستی ھے بد روحوں کی بستی
یہاں روح پرور نظارہ نہیں ھونے والا
انہونیوں کا معترف ھوں پھر بھی یہ طے ھے
اب فیضیؔ کم سے کم تمھارا نہیں ھونے والا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






