وہ پتھر کسی آنکھ کا تارہ نہیں ھونے ولا
Poet: Faizan khuram(faizi) By: faizan khurram, faisalabadوہ پتھر کسی آنکھ کا تارہ نہیں ھونے ولا
تم بھی یہ جان لو وہ تمھارا نہیں ھونے والا
وہ اپنی مثال آپ ھے سو اسکی مثال میں
چاند۔۔ پھول۔۔ کچھ بھی استعا رہ نہیں ھونے والا
پڑھائی کیلئے شہر جانے والا سیدھا سادھا دیہاتی
اب کبھی بوڑھی ماں کا سہا را نہیں ھونے والا
ایک در، وہ دربدر، ھوا گھر سے بے گھر
تم تو کہتے تھے وہ آوارہ نہیں ھونے والا
تجارت کیجئے محبت کی ، کہ اجڑ کر بھی
محبت میں کسی بھی صورت خسارا نہیں ھونے والا
بٹ گیا ھوں میں ہجرتوں میں یہاں وہاں
میں تیرا ھو بھی جاؤں تو سارا نہیں ھونے والا
گرہ لگانے سے کچھ نھیں ھونا ،میاں صاف کہو
کہ 'انکا آپس میں گزارہ نھیں ھونے والا'
چودھویں کی رات ،آسمان بے نور، پہلو میں حضور
کسی قلندر کو دوبارہ ایسا نظارہ نہیں ھونے والا
یہ بستی ھے بد روحوں کی بستی
یہاں روح پرور نظارہ نہیں ھونے والا
انہونیوں کا معترف ھوں پھر بھی یہ طے ھے
اب فیضیؔ کم سے کم تمھارا نہیں ھونے والا
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






