چہرے پہ تیرے حاشیہ آرائی دیکھ کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاچہرے پہ تیرے حاشیہ آرائی دیکھ کر
میں رو پڑی ہوں تری تنہائی دیکھ کر
خود سے بھی اب تو آنکھ ملاتی نہیں ہوں میں
اب کیا کروں یہ پیار کی رسوائی دیکھ کر
پھر دیکھتے ہی دیکھتےدریا اتر گیا
میری اداس آنکھ میں گہرائی دیکھ کر
ملنے سے تیرے زیست کو ترتیب مل گئی
مدت کے بعد پھر تجھے ہرجائی دیکھ کر
پڑھتی ہوں محفلوں میں جو اپنی غزل کبھی
جلتا ہے مجھ کو ملتی پزیرائی دیکھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






