کالے کوگورے کا بھائی بنا دیا
Poet: purki By: m.hassan, karachiجو بھی بچنا چاہے جہنّم کی آگ سے
اعمال ہی کواس کا پیمانہ بنا دیا
ربّ کائنات کی اطاعت سےجو کرے انکار
ایسے ہی بدبختوں کواُس نے شیطان بنا دیا
سب سے مکرّم ہے متّقی اللہ کی نظر میں
انسانوں کی پہچان کے لئےقوم قبیلہ بنادیا
جھوٹوں اور ظالموں پر ہے خدا کی لعنت
آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنّم بنا دیا
محبّت واخوّت ہے اسلام کی اساس
اِسی لئے کالے کوگورے کا بھائی بنادیا
کربلا ہے اصل میں خیروشرکی جنگ
ہر دور اِبتِلا میں اِسے نُسخہ بنا دیا
ماضی میں ایسی مخالفت ہرگز نہیں تھی
اسلام فروشوں نے اسے کاروبار بنادیا
اسلام سلامتی کا دین ہے ہر ایک کے لئے
جس نے بھی دل سے مانا خود کو بدل دیا
جس نے بھی تعلیم کی اہمیت کو سمجھ لیا
زندگی کی حقیقت کو اُس نے سچ میں پالیا
امامت کی حقیقت کو سمجھنا ہرایک پرواجب ہے
چند جاہلوں نے پیش امام کو آخرت کا امام بنادیا
ابلیس سے بڑھ کراور کس نے عبادت کی ہوگی
تکبّر اور نافرمانی نے فرشتے کو شیطان بنادیا
سالوں سال سے پاکستان کے حکمرانوں نے
جمہوریت کا نعرہ لگا کر عوام کو اُلّو بنا دیا
نہ تعلیم نہ روزگار اور نہ ہی امن و امان
ظالم حکمرانوں نے ملک کو جہنّم بنادیا
مولویوں نے نظامِ مصطفٰی کا نعرہ لگا کر
اپنے پیٹوں کو حلوے مانڈے کا مرکز بنادیا
بھٹّو نے روٹی کپڑا اور مکان کانعرہ لگا کر
اپنے لئے ہزاروں ایکڑ زمین کا مقبرہ بنا دیا
کب تک نامعلوم قاتلوں کا پتا لگائے گی کوئی
نا اہل حکمرانوں نے ملک کو بوچڑخانہ بنادیا
یہاں روز بے گناہوں کے جنازےاُٹھتے ہیں
گمنام قاتلوں نے وطن کو قبرستان بنا دیا
چندسالوں سے لاشوں کی سیاست نے پُرکی
میرے وطن کے ہرگھر کو سوگوار بنا دیا
بھکاریوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے دھرتی پر
بھکاریوں نے سب کو بھکاری بنادیا
الیکشن سے قبل انقلابی گیت گا گا کر
خادم اعلیٰ نے سب کو بےوقوف بنادیا
میاں نواز نے عوام سے جھوٹ بول بول کر
اپنے ہی چہرے کی مسکراہٹوں کوبھگا دیا
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






