کام کوئی بھی مِری جان نہ آدھا کرنا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKکام کوئی بھی مِری جان نہ آدھا کرنا
پوُرا کرنا جو کبھی کوئی اِرادہ کرنا
مجھ کو احساس نہ ہو عمر کے ڈھل جانے کا
پیار پہلے سے مجھے اور بھی ذیادہ کرنا
جِس طرح ساتھ مِرا چھوڑ کے چل دیتے ہو
ایسی غلطی کا کبھی پھر نہ اعادہ کرنا
پہنچ پاۓ نہ کِسی آ نکھ کی حِدت مجھ تک
اپنی چاہت کا عطا ایسا لِبادہ کرنا
مجھ کو مفہوم کے جنگل میں بھٹکنا نہ پڑے
اپنے اِلفاظ کو ہر طرح سے سادہ کرنا
میرا ہر ایک قدم تیری ہی جانب اُٹھے
اپنی ہر راہ کو میرے لئے جادہ کرنا
ایک ہرجائی کے سنگ عمر بسر کرنے کو
کام مشکل ہے بہت دل کو آمادہ کرنا
جان جا سکتی ہے وعدے کو نبھانے کے لئے
سوچ لینا جو کسی سے کبھی وعدہ کرنا
وقت اِک پل میں بدل سکتا ہے پانسہ عذرا
اس کو آتا ہے سواروں کو پیادہ کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







