دِل و نظر پہ مرے تجھ کو اختیار سہی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدِل و نظر پہ مرے تجھ کو اختیار سہی
کہ میرے گِرد ترے پیار کا حِصار سہی
صداقتوں کی کوئی تو سز ا ملے آخر
کہیں تو لے کے چلو مجھ کو سوۓ دار سہی
جو وقت بیت گیا لوٹ کر نہ آۓ گا
اگرچہ اپنے کئے پر وہ شرمسار سہی
ملی نہ کوئی خوشی مجھ کو ذات سے تیری
محبتوں کا تو اِک بحرِ بے کنار سہی
کِسی طرح بھی رواں زندگی کو رکھنا ہے
جو تو نہیں تو فقط تیرا اِ نتظار سہی
محبتوں میں کسی اِک کا ہو کے رہ جانا
خطا ہے گر تو چلو ہم گنا ہگار سہی
چمن کے پھول سبھی آپ کا مقدر ہیں
مرے نصیب میں اُجڑی ہویٔ بہار سہی
تمہارے غم نے نہ جینے دیا کبھی عذرا
زمانے بھر کے مجھے پیش غم ہزار سہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






