کبھی جب میں نہیں ہوں گى
Poet: By: Rania Ch, Lahoreکبھی جب میں نہیں ہوں گى
تمہیں سب یاد آئے گا
وہ میری بے کراں چاہت
تمہارے نام کی عادت
وہ میرے عشق کی شدت
وصال و ہجر کی لذت
تمہاری ہر ادا کو شاعری کا رنگ دے دینا
خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا
تمہیں سب یاد آئے گا..
وہ میری آنکھ کا نم بھی
وفاؤں کا وہ موسم بھی
جنوں خیزی کا عالم بھی
مری ہر اک خوشی ہر غم بھی
مرا وہ مسکرا کر درد کو دل سے لگا لینا
تمہاری خواب سی آنکھوں کا ہر آنسو چرا لینا
تمہیں سب یاد آئے گا
تمہاری سوچ میں رہنا
تمہاری بے رخی سہنا
بُھلا کر رنجشیں ساری
فقط "اپنا" تمہیں کہنا
تمہارے نام کو تسبیح کی صورت بنا لینا
تمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ سجا لینا..
ابھی تو مسکرا کر تم مری باتوں کو سنتے ہو
مگر یہ جان لو جاناں!
تمہیں سب یاد آئے گا
کبھی جو میں نہیں ہوں گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






