ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺭهى ﮨﻮﮞ ﺗُﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﺎﻃﺮ، ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣُﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﻮ

Poet: By: Rania Ch, Lahore

ﻭﮦ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺑِﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ
ﺍُﺩﺍﺱ ﺗﻨﮩﺎ ﺍُﺳﮯ ﻣﻨﺎ ﻟﻮ
ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ، ﺍُﺳﮯ
ﭘُﮑﺎﺭﻭ، ﺍُﺳﮯ ﺑُﻼ ﻟﻮ
ﺍُﺳﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ ﻣُﺤﺒﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻤﺤﮯ ﺭﮨﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﭼﺮﺍﻍ ﺑُﺠﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻭﻓﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﯽ
ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺟﻼ ﻟﻮ
ﻣﻼﻝ ﮐﯿﺴﺎ ﺷﮑﺴﺘﮕﯽ ﮐﺎ، ﺍُﺳﮯ ﺗﻮ ﮨﻮﻧﺎ
ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﮐِﺴﯽ ﮐﺎ
ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮨﻮ ﺑﮭﯽ ﮔﯿﺎ ﮐِﺴﯽ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ
ﮨﻮﻧﮯ ﭘﮧ ﺧﺎﮎ ﮈﺍﻟﻮ
ﯾﮩﯽ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ
ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ
ﺟﻮ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﮨﻨﺴﺎﺅ ﺍُﺱ ﮐﻮ، ﺟﻮ ﻣﺮ ﺭﮨﺎ
ﮨﻮ ﺍُﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﻮ
ﭼﻠﻮ ﯾﮧ ﻗﺼﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﻭ، ﻧﮧ ﺗُﻢ ﮨﻤﺎﺭﮮ
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺗُﻤﮩﺎﺭﮮ
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﯽ ﻓﺮﻕ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ
ﺭﮦ ﻟﻮ ﮐﮧ ﻏﻞ ﻣﭽﺎﻟﻮ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻧﺸﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ
ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﻣُﺸﮑﻞ
ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﮔﺮ ﺗُﻤﮩﺎﺭى ﺗﻮ ﮔِﺮﺗﮯ
ﮔِﺮﺗﮯ ﻣُﺠﮭﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻮ
ﻧﮩﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣُﺠﮭﮯ ﮐِﺴﯽ ﮐﯽ، ﮐِﺴﯽ
ﻧﮯ ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺗﻮ ﮨﻮ ﮐﮯ
ﺗﻨﮩﺎ ﺧﻮﺩ ﺁﺯﻣﺎ ﻟﻮ
ﯾﮧ ﺗُﻢ ﮐﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗُﻢ
ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﺮﯼ
ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺭهى ﮨﻮﮞ ﺗُﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﺎﻃﺮ، ﺗﻢ
ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣُﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﻮ

Rate it:
Views: 1049
31 Oct, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL