کبھی خوابوں کبھی خیالوں میں آتا ہے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamکبھی خوابوں کبھی خیالوں میں آتا ہے
کبھی اندھیروں کبھی اجالوں میں آتاہے
اس کےسامنےمیرا نام لینے کی دیرہے
پھر لال رنگ اس کے گالوں میں آتا ہے
پیار سے اسےحسن کی رانی کہتا ہوں
اس کا پہلا نمبر زہرہ جمالوں میں آتاہے
ہمارےنام سےکوئی دھوکہ نہ کھا بیٹھے
اب تو ہمارا نام بھی دل والوں میں آتا ہے
زندگی نےجینےکاایساقرینہ سکھایاہے
اب نہ اصغر کسی کی چالوں میں آتاہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






