اس شخص سے بےانتہاہ پیار کیا تھا

Poet: Maria Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbd

اس شخص سے بے انتہاہ پیار کیا تھا
دل اس کی خاطر بے قرار کیا تھا

شام کا کہہ کر صبح کو آنا
آتے ہی سو سو بہانے بنانا
اس کے ہر بہانے پر اعتبار کیا تھا
اس شخص سے بے انتہاہ پیار کیا تھا

وہ کہتا تھا تو سج جاتی تھی
وہ کہتا تھا تو کاجل لگاتی تھی
اس شخص پر اپنا حسن وار دیا تھا
دل اسکی خاطر بے قرار کیا تھا

وہ جب بھی اپنے ہونٹ میری پیشانی پہ رکھتا
لمبی لمبی محبت کی سانسیں بھرتا
اس شخص پر محبت کا ہر پل وار دیا تھا
اس شخص سے بےانتہاہ پیار کیا تھا

اس کے کہنے پر اسکا انتظار کرنا
گھڑی کو بار بار دیکھ کر آہ بھرنا
اس شخص کے عشق میں خود کو گرفتار کیا تھا
دل اس کی خاطر بے قرار کیا تھا

وہ بے وفا تھا دےگیا بےوفائی کا زخم
بھر گیا آنکھوں میں جدائی کا غم
اس شخص نے لمحوں کو اشکبار کیا تھا

اس شخص سے بے پناہ پیار کیا تھا
دل اسکی خاطر بے قرار کیا تھا

Rate it:
Views: 694
02 Feb, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL