کبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچے
Poet: عالی گوپالوری By: مصدق رفیق, Karachiکبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچے
نہ فنا سے آشنا ہو تو دوام تک نہ پہنچے
تو پلا مجھے نظر سے کہ یہ جام تک نہ پہنچے
کہیں بادۂ محبت سر عام تک نہ پہنچے
تو ستم کی قینچیوں سے پر آرزو جو کاٹے
کوئی طائر تخیل ترے بام تک نہ پہنچے
مرا وقت واپسی ہے تو نہ آ مرے سرہانے
کہ جفا کی کوئی تہمت ترے نام تک نہ پہنچے
جو صنم کدے میں جلوہ ترا دیکھ لے برہمن
ترا نام چھوڑ کر وہ کبھی رام تک نہ پہنچے
تری ایک یاد رنگیں مری زیست کا سہارا
جو وہ صبح کو نہ آئے تو یہ شام تک نہ پہنچے
مرا آخری تھا سجدہ کہ نفس نے ساتھ چھوڑا
ترے در پہ سر جھکایا تو قیام تک نہ پہنچے
مرا کاروان ہستی مرے صبر ہی نے لوٹا
کبھی آہ بھی جو کھینچی ترے نام تک نہ پہونچے
غم عشق گر نہ ہو تو نہ ہو دل اسیر گیسو
کہ نہ ہو جو دانہ طائر کبھی دام تک نہ پہنچے
میں جھکا ہوں بندگی کو تو وہ رخ پھرا رہے ہیں
کہ سلام رفتہ رفتہ یہ پیام تک نہ پہنچے
جو نقاب رخ الٹ کر کبھی سامنے بھی آیا
جو چڑھائے تیوروں کو کہ سلام تک نہ پہنچے
جو پلا دے مسکرا کر تو جھکی جھکی نظر سے
کوئی ہاتھ میکدے میں کبھی جام تک نہ پہنچے
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






