لگا کے دل کبھی آنسو بھی ہم بہا نہ سکے

Poet: عالی گوپالوری By: مصدق رفیق, Karachi

لگا کے دل کبھی آنسو بھی ہم بہا نہ سکے
لگی جو آگ جگر میں اسے بجھا نہ سکے

کیا ضعیف ترے قصد جستجو نے ہمیں
کہ تا لحد بھی ہم اپنے قدم سے جا نہ سکے

وہ آج بزم میں تیور چڑھائے آئے ہیں
کہ حال دل کوئی اپنا انہیں سنا نہ سکے

ازل سے نام پہ میرے فروغ لکھا تھا
وہ مجھ کو لاکھ مٹایا کئے مٹا نہ سکے

سلا کے قبر میں دیتے ہو تھپکیاں صاحب
کہ مجھ کو شور قیامت بھی اب جگا نہ سکے

ہمارا دولت دنیا نے سر بلند کیا
کہ در پہ دوست کے سجدے کو سر جھکا نہ سکے

ہمارے دل میں لکھی تھی مگر تری الفت
کہ ہم جمال جہاں سے فریب کھا نہ سکے

برا ہو رنگ رخ نا مراد کا عالیؔ
کسی کا راز کلیجہ میں ہم چھپا نہ سکے
 

Rate it:
Views: 273
25 Mar, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL