کبھی ساگر کبھی سنسان، اپنائے ہیں اب تک
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکبھی ساگر کبھی سنسان، اپنائے ہیں اب تک
کس خوف میں درمان چھپائے ہیں اب تک
میری رنگت میں تو بے لطفی ویسی ہی ہے
اپنے گھر تو مہمان کئی آئے ہیں اب تک
یہ شجاعت کی دیوانگی تھی کہ ہم مر نہ سکے
ویسے تو بہت ہی ارمان آئے ہیں اب تک
تنگدستی سے آنکھیں جو بند ہو چکی تھی مگر
غیر دلچسپی کے غلطان جتائے ہیں اب تک
میرے خوابوں کو حراست میں کس نے لے لیا
بے سانس ان کی نگہبان پڑے ہیں اب تک
زمانہ پتھر دلی کے ساتھ نابین بھی رہا ہے
سنتوشؔ سب آنسو یوں رائیگان بہائے ہیں اب تک
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






