تمہیں حد سے دیکھا بے حد ہوگئے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiتمہیں حد سے دیکھا بے حد ہوگئے
اس نظارے کے اور بس لاحد ہوگئے
دلکشی کا کوئی محاورہ مدت سے مرگیا
تناؤ سے جو اٹھے تھے آواز بند ہوگئے
کس نے کہا پھر اس دنیا میں نہ جائیں
تیرےَ سرا نے بیکار سمجھا وہ بد ہوگئے
اتفاق کی مٹی سے ہی خلقت ہماری
کوئی جانتا بھی نہیں اتنے اشد ہوگئے
ایک گھوٹ کی امید نے کتنا منتظر کیا
چھلکی پھر جو آنکھ تو سبھی مدَ ہوگئے
ہاتھ کی لکیر کو تو اس پار کا پتہ نہیں
لگتا ہے غم بیچ کی کوئی سرحد ہوگئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






