کب عشق تیرا پیچھا چھورے ہے

Poet: syed hammad raza naqvi By: syed hammad raza naqvi, Faisalabad

دل چھیڑتا ہوا جب پلکیں جھوکاتا تھا
وقت تھا کہ گزرتا جاتا تھا

لب کشائی کا یہ عالم نہ پوچھ کیسے گزرا
سانس تھا کہ اکھڑتا جاتا تھا

نظر ساکت ہوئی چبھ گیا تشتر کوئی
ہاتھ جگر پہ آیا مرض تھا کہ بڑتا جاتا تھا

کب عشق رضا تیرا پیچھا چھوڑے ہے
رمز رک کر بھی درد تھا کہ چلتا جاتا تھا

نام مطلوب کو تشبیح کی طرح
آیت تھا کہ پڑتا جاتا تھا

Rate it:
Views: 438
10 Jul, 2016