کتنا غافل ہے مجھے اچھا سمجھنے والا
Poet: muhammad faizan munghiz By: muhammad faizan munghiz, jhelumکتنا غافل ہے مجھے اچھا سمجھنے والا
کیا بسائے گا مجھے خود ہی اجڑنے والا
کیا تماشا ہے کہ میں اس پہ بگڑ بیٹھا ہوں
وہ جو مشہور ہے لوگوں میں بگڑنے والا
زندہ رہنے کا سبب کیا ہے یہ دل سے پوچھ
جز تیرے اور نہیں کوئی دھڑکنے والا
ناو ڈوبی میری کرتے ہوئے دیدار تیرا
اور تیرا نام ہی لیتا تھا ابھرنے والا
تیری وجہ سے ہی لڑتا ہوں زمانے بھر سے
میں ہوں مشہورزمانے میں جھگڑنے والا
کیسی آنکھیں ہیں وہ ظالم کی سمندر جیسی
کتنا روشن تیرا چہرہ ہے چمکنے والا
تمہیں معلوم ہے کون لکھے گا یہ غزل
آپ کے عشق میں ہر وقت تڑپنے والا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






