کتنا ہے اب بھی دیکھ لو
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکتنا ہے دیکھ لو اب بھی یار پیار تم سے
ملتا ہے یاد کرتا ہوں جب قرار تم سے
ملنے چلے ہی آؤ دل بے قرار ہی ہے
آئے گا زندگی میں پھر ہی خمار تم سے
دل کا ہوا ہے موسم بھی خوشگوار جاناں
باغوِں میں آئی ہے دیکھو نا بہار تم سے
روتے ہو یاد کرکے تم بھی مجھے تو اکثر
اب مان لو نہیں ہوتا انتظار تم سے
کیسے بھلا تمہیں دوں ممکن نہیں ہے شہزاد
برسوں کا ہے ہمارا یارانہ یار تم سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






