کرے گا تنگ وہ کیا عرصۂ حیات مرا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKکرے گا تنگ وہ کیا عرصۂ حیات مرا
کہ تھام رکھا ہے میرے خدا نے ہاتھ مرا
بقول تیرے بہت بیوفا ہے عورت ذات
بگاڑ لیں گے بھلا کیا یہ نظریات مرا
مرے وجود کو طعنوں سے چھیدنے والے
بڑے ہی چاؤ سے مانگا تھا تو نے ہاتھ مرا
یہ سوچ کرنہیں جاتی میں اب قریب اس کے
نہ جان لے لے کہیں اس کی التفات مرا
کسی بھی حال میں جینا ہے ، جتنا جینا ہے
کریں گے حوصلے کم کیا یہ حادثات مرا
چلے گی جب تو مرے بعد میری لختِ جگر
چلے گا سایہ ہمیشہ تمہارے ساتھ مرا
تو میرے ساتھ بھی چلنے کی کیا ضرورت ہے
اگر قبول نہیں ہے تجھے یہ ساتھ میرا
کھلی کھلی سی حسیں چاندنی کے سائے میں
دُکھا رہی ہے بہت دل یہ چاند رات مرا
ازل سے ہی مری خواہش رہی ہے یہ عذراؔ
کہ احترام کرے ساری کائنات مرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







