کر رہا ہے وہ التجا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکر رہا ہے وہ التجا مجھ کو
اپنا ایڈرس تو بتا مجھ کو
کال کرنے کے بعد کہتا ہے
اپنا دیدار اب کرا مجھ کو
تم سے ملنا اب ضروری ہے
کب کہاں ملنا ہے بتا مجھ کو
پھول دے گا مجھے وہ تحفے میں
کہتا ہے وہ کبھی بلا مجھ کو
میں کروں گا قبول ہنس ہنس کر
پیار کی دے جو بھی سزا مجھ کو
ساتھ تیرا نہیں میں چھوڑوں گا
آ کبھی یار آ زما مجھ کو
مرنا جینا ہے ساتھ تیرے اب
ساتھ دینے کی دے دعا مجھ کو
دیکھنا چاہتا ہوں جی بھر کے
ساتھ اپنے ذرا گھما مجھ کو
پیار مخلص میں کرتا ہوں تم کو
دینا شہزاد مت دغا مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






