کر سی نہ کر سی ہُن میں کُش نہ کر سی
Poet: Darakhshanda By: Darakhshanda, Hustonکر سی نہ کر سی ہُن میں کُش نہ کر سی
تینؤ پُل کے وِی ہن کدے یاد نہ کرسی
لارے لپے د یندے چُوٹھیاں باتاں کردے لُوکی
نہ اغتبار کر سی ہُن کسی دا نہ پیار کر سی
مطلب دے یار سارے ہُن پیار نہ پاوۓ کوئ
کر سی نہ کر سی ہن میں کش نہ کر سی
کرنا جو تو آپئ کر ہُن تا میں رُس بیٹھی آں
اک چپ سادھ لئ ہُن میں کُش نہ کرسی
متھے نہ لگیں ہُن تو میرے کدے وی
اپنے رب اگے ہُن میں اے فریاد ہی کر سی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






