دل کی لگی کو دل ہی جانے
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK دل کی لگی کو دل ہی جانے۔
یہ پیار ھے کیا کوئی کیا پہچانے؟
یہ کوئی کھیل تماشہ نہیں ھے۔
سمجھا رے کچھ تو او ! دیوانے۔
یہ کوئی خواب وخیال نہیں ھے۔
یہ حقیقت ھے ابتو مانے نہ مانے۔
چھیڑ کوئی تار تو اس دل کا۔۔
ڈھونڈھتا ھے پھر کیوں تو بہانے؟
جو ماضی مین کب کا بھول چکا ہوں۔
پھر کیون آیا ھے اسے یاد دلانے ؟
بس تیری آمد کا منتظر ھے دل !
لگا ہوا ھے دیکھ خود کو سجانے۔
کیا تمہیں محبت کا اعتبار نہیں اپنی؟
جو چلا آئوں تمہیں یار بھروسہ دلانے۔
تمہاری محبت کا جنوں ھے سر پر۔
کھسکے ہیں صاحب عقل نہیں ٹھکانے۔
کسے معلوم بھید تیرے دل کا ؟
ہمیں نہیں معلوم بس خدا ہی جانے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






