کسی بے مہر لمحے کی ادا پر مسکرانا ہے
Poet: Aneela Khan By: Asghar Baig, Birminghamکسی بے مہر لمحے کی ادا پر مسکرانا ہے
مجھے بھی آج اپنے حوصلے کو آزمانا ہے
اُسے ملنے کی ہر اک بات سے پہلو بچانا ہے
ابھی تو میں نے اپنی خواہشوں کا دل دکھانا ہے
مری چاہت نہین بدلی مرے حالات بدلے ہیں
مجھے حالات کا سورج سرِ آنچل سجاناہے
ارے یہ دیکھئے قسمت وہیں سے لوٹ آئے ہیں
جہاں سب منزلوں نے جا کے اپنا سر جھکا نا ہے
ابھی ہیں صبر کی باتیں ابھی ہیں جبر کی باتیں
نجانے کب تلک یونہی ہمیں غم کو نبھانا ہے
ابھی تو آشنائے درد کرنا ہے تمہیں میں نے
تمہاری روح کو اک کرب کا محشر دکھانا ہے
بڑے اک حّوصلے کی آج شب مجھ کو ضرورت ہے
عُروسانہ زیبائش میں اُنہیں چہرہ دکھانا ہے
مرے لمحوں کے ہر سُر میں تری آواز آتی ہے
تمہی کہہ دو مرے ساجن تمہیں کیسے بھلا نا ہے
میں اُس کو پا نہیں سکتی وہ میرا ہو نہیں سکتا
انیلہ میں نے دل کو یہ بھی اک صدمہ سنانا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






