کسی حسیں دل نشیں صنم کی ستائے رکھتی ہے یاد اکثر
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, daskaکسی حسیں دل نشیں صنم کی ستائے رکھتی ہے یاد اکثر
نہ آنے دیتی ہے نیند مجھ کو جگائے رکھتی ہے یاد اکثر
ہمارا ماضی اترا رہا ہے کٹار بن کر ہمارے دل پر
خیالِ ماضی نقوشِ ماضی سجائے رکھتی ہے یاد اکثر
گلابی ہونٹ اور سرخ چہرہ وہ مے سے لبریز اس کی آنکھیں
ہیں جب سے دیکھی مثالِ شمع جلائے رکھتی ہے یاد اکثر
جو کر لیا میں نے اس کو حاصل زمانے بھر کو عدو بنایا
یہی ذہن میں نا جانے کیوں کر بسائے رکھتی ہے یاد اکثر
وہ ڈر سے گھبرایا اس کا لہجہ مگر دلیرانہ گفتگو جو
ہنسا کے جاتی ہے اور کبھی تو رلائے رکھتی ہے یاد اکثر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






