نہ تو مجھ کو یہ لوح و قلم چاہئے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaنہ تو مجھ کو یہ لوح و قلم چاہئے
نہ ہی مجھ کو یہ دَیر و حرم چاہئے
نہ ہے خلدِ بریں کی ضرورت مجھے
نہ رضائے جہاں اے صنم چاہئے
گر زمانے میں کچھ چاہئے تو مجھے
ایک تو ہی خدا کی قسم چاہئے
غم نہیں چھوڑ دیں غیر،اپنے مجھے
ساتھ تیرا مگر ہر قدم چاہئے
دردِ ہجراں مرا دردِ سر بن گیا
ساقیا جام،کاغذ،قلم چاہئے
شب اندھیری ہے پردہ ہٹا دیجئے
روشنی کے لئے یہ کرم چاہئے
خِرد مندوں سے مَیں نے سنا جعفری
چاہ کو پختگی اور بھرم چاہئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






