کسی کا آسمان
Poet: Hukhan By: Hukhan, karachiہاں اب بھی یاد ہے
اس کا یوں مسکرانا
کائنات کو روشن بنانا
بڑی سی شام میں
چھوٹا سا وجود اس کا
بن جانا چاند زمین کا
کوئی نہ ہے تم سا
یہ سچ تھا
کل کا اور آج کا
جیسے ہو کوئی اپنا سا
مگر مہمان سا
خوشبو سی غزل سی اَن کہی
جگنو سے لفظ
موتیوں سے احساس
انمول سی مسکان
بے جان سی مورتی
پڑ گئی ہو جان
بن گئی ہو
کسی کے جینے کا سامان
خود سے آج بھی انجان
مگر کسی کی زمین
کسی کا آسمان
ہاں کسی کا آسمان،،،
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






