کسی کسی پہ ہی کھلتا ہے رازِ ہجر و وصال
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiدیارِ شوق میں کب رتجگا نہیں ہوتا
مگر ہر آنکھ کو یہ حوصلہ نہیں ہوتا
کسی کسی پہ ہی کھلتا ہے رازِ ہجر و وصال
ہر ایک دل کو یہ منصب عطا نہیں ہوتا
لگی ہے بھیڑ مناظر کی تا بہ حدِّ نگاہ
جو دیکھو تو کوئی منظر نیا نہیں ہوتا
میں خود سے پوچھتا ہوں کون ہے، کہاں ہے تو
جواب لینے کا پھر حوصلہ نہیں ہوتا
اُسی کا نام پکارا ہے روز و شب لیکن
وہ بے نیاز ہے، میرا خدا نہیں ہوتا
چراغِ آرزوئے شوق کو بجھا نہ سمجھ
بجھا سا لگتا ہے لیکن بجھا نہیں ہوتا
چلو وہ راندۂ درگاہِ دوستاں ہی سہی
دل ایسا دوست کوئی دوسرا نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






