کسی کی زُلف رات ، چہرہ قمر یاد کرو ۔۔۔!
Poet: imran Gohar By: imran Gohar, Faisalabadجا بجا کِس کو ڈھونڈتی ہے نظر یاد کرو
کوئی نقشہ کوئی منظر کوئی در یاد کرو
عین ممکن ہے طبیعت کی تشنگی کم ہو
نگاہِ یار مثلِ آب و ابر یاد کرو
زرا سکون سے صحنِ دماغ پر اُترو
اورماضی کے حسیں شام وسحریادکرو
جو ہر لمحہ تر و تازہ مہکتا رہتا
وہ گھر تھاخوشبووں کاایک نگریادکرو
شگافِ دل کو مِلانے کا ہے علاج یہی
کسی کی زُلف رات ، چہرہ قمر یاد کرو
قریب ہے گوہر دل کا سُراغ مِل جائے
وہاں آباد تھا اک پورا شہر یاد کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






