کس نے کہا تھا مجھ سے "بتا ؤ تو کون ہوں"
Poet: sir By: WASHMA KHAN WASHMA, MOSCOWکس نے کہا تھا مجھ سے "بتا ؤ تو کون ہوں"
رکھے تھے کس نے چپکے سے آنکھوں پہ آکے ہاتھ
دینا کسی کا چا ئے کی پیالی ہے اب بھی یاد
منہ پھیر کر اُدھر کو اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ
پھر درد کیا کہ وقت کی گردش بھی تھم گئی
رکھا تھا میرے ماتھے پہ جب مسکرا کے ہاتھ
اس کی جفائیں بزم میں کرنے لگا بیاں
خاموش کردیا مجھے میرا دبا کے ہاتھ
اک آس تھی سو دست شنا سوں نے توڑ دی
مایوس اور بھی ہوا ان کو دکھا کے ہاتھ
دیکھوں وہ اشک وآہ کا دیتا ہے کیا جواب
پیغام اس کو بھیجا ہے آب وہوا کے ہاتھ
اپنے معا ملات کی میں فکر کیوں کروں
میرے معا ملات تو سب ہیں خدا کے ہاتھ
ما نگو سکون اس سے جو کچھ مانگنا بھی ہو
پھیلے ہیں جس کے سامنے شاہ و گدا کے ہاتھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






