کوئی آتا نہیں یہ بہاریں زنگ سی ہوگئی ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکوئی آتا نہیں یہ بہاریں زنگ سی ہوگئی ہیں
مدتیں تڑپ تڑپ کر اب تو پتنگ سی ہوگئی ہیں
نہیں دل چاہتا کہ پھر سے زخموں کو ہوا دیں مگر
خود پہ نہ قابو عادتیں بے ڈھنگ سی ہوگئی ہیں
تیری تحریروں کو کبھی کبھی غور سے پڑہ لیتا ہوں
مرجھائی پتیوں کے ساتھ وہ بے رنگ سی ہوگئی ہیں
تو ہی بتا بکھرتی سوچوں کو کیسے باہم کروں
سبھی یہ فراستیں ابکہ اتنی تنگ سی ہوگئی ہیں
میں سخت گیر ہی صحیح، تہ نشین نہیں ہو سکتا
رعنایاں تذکیر و تانیث، ایک انگ سی ہوگئی ہیں
سوچتا ہوں کہ ہر مزاج سے کتراکے گذروں لیکن
سنتوشؔ ابکہ سبھی تجویزیں جیسے جنگ سی ہوگئی ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






