کوئی ربط رکھتے کوئی سلسلہ رکھتے
Poet: Akhlaq Ahmed Khan By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiکوئی ربط رکھتے کوئی سلسلہ رکھتے
تو ہم بھی دروازہ گھر کا کُھلا رکھتے
جاتے ہوئے اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا
کیا اس کے پلٹنے کا آسرا رکھتے
تیرے بعد سب اندھیرا ہی تو تھا
کس کے لئے چراغ پھر جلا رکھتے
چلتے ہوئے کسی کے ہونے کا احساس رہے
اس لئے آپ ہی زمیں پر کچھ گرا رکھتے
تو نہیں پہلو میں تیرا احساس تو تھا
اسی احساس میں خالی مسہری کا سِرا رکھتے
باغ آنگن میں اُجڑتا نہ تو کیا ہوتا
کیا تنہا بیٹھنے کو اُسے ہرا بھرا رکھتے
دن نہیں گنتے ، راہیں نہیں تکتے
تیری طرح گر ہم بھی کوئی دوسرا رکھتے
دیکھ تیرے بعد بھی زندہ ہوں میں ابتک
اور اس سے زیادہ کیا حوصلہ رکھتے
تیرے بعد کچھ اس لئے بھی جی گئے ہم
پھر جس بھی ملتے کچھ فاصلہ رکھتے
گر ہمیں لالچِ جامِ بہشت نہ ہوتی
مئہ پی کر غم تیرا ہم بھی بُھلا رکھتے
مزاج میں اپنے بدحواسیاں تو تھیں
ورنہ کیوں نام ہمارا وہ سرپھرا رکھتے
اخلاق کیا ملا تجھے اس فانی محبت سے
بھلا تھا اس سے کہ شوقِ خدا رکھتےتتتتتت
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






